Dajjal story in urdu

دجال سے ملاقاتdajjal say mulaqat


Antichrist2020dajjal.blogspot.com


ہم نے علماء کرام سے کئی مرتبہ سنا ہوگا کہ دجال کا فتنہ کتنا بڑا فتنہ ہو گا اور اس فتنے کی زد میں آنے والے لوگوں پر جہنم واجب ہو جاۓ گی۔

  دجال دراصل شیطان مردود کا وہ سب سے بڑا ہتھیار ہے جو کہ قیامت سے پہلے ہی قیامت کھڑی کر دے گا۔اس فتنے کے دوران رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی صنح مومن ہو گا اور شام کو کافر ۔اس دجال کو ایک صحابی رسولﷺ نے دیکھا اور اس کا ماجرا ﷲکے رسول ْﷺ کو سنایا جس کی تفصیل نیچے لکھ دی گئ ہے۔

آپ سے گزارش ہے کہ حدیث نبوی ﷺ کو مکمل پڑھیں اور اس کے ساتھ ساتھ سورة الکہف کی ابتدائی دس آیات کو حفظ کرلیں ۔انشاءلله دجال کا کوئ بھی حربہ اور کوئ بھی چال آپ کے اوپر اثرانداز نہ ہو گی اور آپ اس فتنے کے دور 
میں محفوظ اور مامون رہیں گے۔انشاءﷲ

          دجال کہاں قید ہے

دجال کے مقام کی تصدیق رسول ﷲﷺ کے دور میں ہی ہو چکی تھی۔ایک مرتبہ رسولﷲﷺ نے نماز پڑھی اور منبر پر بیٹھے اور مسکراتے ہوۓ اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تم کو   کیوں جمع کیا گیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ﷲ اور ﷲ کا نبیﷺ بہتر جانتا ہے۔
!رسول خدا ﷺ نے فرمایاﷲکی قسم
میں نے نہ تو تمہیں کسی چیز کا شوق بڑھانے کے لئے بلایا ہے اور نہ ہی میں نے تم کو کسی چیز سے ڈرانے کیلئے بلایا ہے بلکہ اس لئے بلایا ہے کہ"تمیم داری" پہلے ایک عیسائ تھا مگر اس نے اسلام کو اپنا دین چن لیا۔اس نے مجھے ایک ایسا واقع سنایا ہے جو اس چیز سے مناسبت رکھتا ہے یعنی دجال کے حوالے سے جو میں تم لوگوں کو بتایا کرتا ہوں۔
رسولﷲﷺ بولے کہ تمیم داری نے بتایا ہے کہ وہ لخم اور جزام قبیلے کے تیس لوگوں کے ساتھ ایک سمندری جہاز پر روانہ ہوا ان کو جہاز کی لہروں نے ایک ماہ تک ادھر ادھر بھٹکایا اور بالآخر ایک ویران جزیرے پر لا پٹخا وہ سورج کے غروب ہونے کا وقت تھا ۔وہ ایک چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر اس جزیرے کی جانب روانہ ہو گئے۔جزیرے پر ان کو ایک جانور ملا جس کے پورے جسم پر بال ہی بال تھے بالوں کی کثرت کیوجہ سے نہ اس کا اگلا سمجھ آتا اور نہ ہی پچھلا۔انھوں نے پوچھا کہ "تیرا ستیاناس ہو"تو کیا چیز ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ میںرا نام "جساسہ"ہے۔انھوں نے پوچھا کہ" یہ جساسہ کسے کہتے ہیں؟وہ بولا کہ اے آنے والے لوگو! جاؤ اس خانقاہ کے اندر جاؤ وہاں کوئ بڑے اشتیاق سے تمھاری باتیں سننے کا منتظر ہے۔تمیم داری نے کہا کہ ہم کو یہ باتیں سن کر خوف محسوس ہوا کہ کہیں یہ جانور شیطان نہ ہو۔بہرحال ہم تیزی کے ساتھ اس خانقاہ میں داخل ہوۓ تو ہم نے ایک بہت بھاری قد کاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گٹنوں سے ٹخنوں تک زنجیریں بندھی ہوئی تھیں اور اس کے ہاتھ بھی زنجیروں کے ساتھ اس کی گردن سے بندھے ہوۓ تھے۔انھوں نے اس سے بھی یہی پوچھا کہ "تیرا ستیاناس ہو اب تو کیا چیز ہے؟"۔اس نے کہا کہ میرا بہت جلد تم کو پتہ چل جاۓ گا پہلے یہ بتاؤ کہ تم کون ہو؟انھوں نے جواب دیا کہ ہم عرب سے آۓ ہیں ہمارا جہاز سمندر میں بھٹکتا ہوا کئی روز کے بعد اس جزیرے کے قریب آگیا ۔ہم کشتی میں بیٹھ کر یہاں آ گئے تو ہمیں ایک بالوں سے مکمل ڈھکا ہوا جانور ملا جو جہ گفتگو کرتا تھا اس نے ہمیں اپنا نام " جساسہ" بتایا اور تیرے بارے میں بتایا کہ تو یہاں ہم سے ملنے کو بےتاب ہے ہم اس ڈر سے کہ وہ شیطان نہ ہو تیری طرف آۓ ہیں ۔
اس نےسوال کیا کہ مجھے " بیسان کے کھجوروں کے باغوں کے بارے میں بتاؤ کہ کیا اس پر پھل آتے ہیں کہ نہی؟انھوں نے جواب دیا "ہاں"۔
اس نے سوال کیا کہ" مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ "؟_انھوں نے کہا کہ پوچھو کیا بتائیں؟ اس نے پوچھا کیا اس جھیل میں پانی ہے؟ انھوں نے کہا " ہاں۔اس میں بہت پانی ہے"۔اس نے کہا  " بہت جلد اس کا پانی ختم ہو جاۓ گا"۔
اس نے سوال کیا " مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ کہ کیا لوگ اس کے پانی سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں"؟ انھوں نے جواب دیا "اس چشمے میں بہت پانی ہے اور لوگ اس سے کھیتی باڑی کرتے ہیں۔"
اس نے پھر سوال کیا کہ " مجھے عرب کے اس نبیﷺ کا حال بتاؤ کہ اس نے کیا کیا ہے"۔ انھوں نے جواب دیا " وہ مکہ سے نکل کر یثرب(مدینہ) آگۓ ہیں۔
اس نے پوچھا کہ" کیا عربوں نے ان سے جنگ کی ہے؟" انھوں نے جواب دیا "ہاں"
اس نے پوچھا " اس نبیﷺ نے ان عربوں سے کیا سلوک کیا ؟انھوں نے جواب دیا کہ وہ ارد گرد کے علاقوں پر غالب آ چکے ہیں اور لوگوں نے ان کی اطاعت قبول کر لی ہے۔"
یہ سن کر اس نے کہا" کیا واقع ایسا ہو چکا ہے۔" انھوں نے کہا " ہاں ایسا ہی ہوا ہے ۔" یہ سن کر وہ بولا کہ "ان عربوں کے لیے یہی بہتر تھا کہ وہ ان(ﷺ) کی اطاعت قبول کرتے۔

پھر وہ بولااب میں تمھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں ۔کہ " میں دجال ہوں اور اس جزیرے پر قید ہوں۔مجھے عنقریب خروج(نکلنے جی اجازت) کی اجازت مل جاۓ گی ۔"(صحیع مسلم #7208,راوی فاطمه بنت قیس)







Comments